سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

منظر نقوی

سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

    بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی

    عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے

    ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی

    زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے

    قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی

    خون کی روانی میں اس قدر محبت ہے

    نفرتوں کے حلقوں سے دوستی نہیں ہوتی

    خواہشوں کے لشکر سے روز لڑتا رہتا ہوں

    یہ بھی اک معمہ ہے دشمنی نہیں ہوتی

    تم نے بت بنائے ہیں تم کو ہی مبارک ہوں

    بت شکن قبیلے سے آذری نہیں ہوتی

    سب خزاں کے پتوں میں گل بہار منظر ہے

    خوشبوؤں کے آنے کی مخبری نہیں ہوتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY