سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں

حبیب موسوی

سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں

حبیب موسوی

MORE BYحبیب موسوی

    سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں

    غافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیں

    قیمت اگر وہ دیتے ہیں تکرار بھی نہیں

    کچھ ہم کو دل کے دینے میں انکار بھی نہیں

    نسبت ہے جسم و روح کی اللہ رے اتحاد

    سبحہ اگر نہیں ہے تو زنار بھی نہیں

    بیٹھا ہوں اس کی یاد میں بھولا ہوں غیر کو

    زاہد اگر نہیں ہوں ریاکار بھی نہیں

    جائیں وہ قتل غیر کو ہم رشک سے مریں

    ایسی تو اپنی جان سے بیزار بھی نہیں

    آنا ہو آؤ ورنہ یہ کہہ دو نہ آئیں گے

    سن لو یہ دو ہی باتیں ہیں طومار بھی نہیں

    سودا تمام ہو گیا بازار اٹھ گیا

    وہ دل بھی اب نہیں وہ خریدار بھی نہیں

    طرز جفا بھی بھول گئی کیا وفا کے ساتھ

    دل دار گر نہیں ہو دل آزار بھی نہیں

    لیں گے ہزار در سے پلٹ کر در مراد

    منعم نہ دیں تو کیا تری سرکار بھی نہیں

    بھیجیں گے حسب حال انہیں گو نہ لکھ سکیں

    کیا دامن اور دیدۂ خوں بار بھی نہیں

    بلبل چمن کو دیکھ خزاں کے ستم کو دیکھ

    گل کا تو ذکر کیا ہے کہیں خار بھی نہیں

    آزاد ہیں شراب کے عادی نہیں حبیبؔ

    احباب گر پلائیں تو انکار بھی نہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY