سبز شاخوں پہ زمانے کی نظر ہوتی ہے

محفوظ اثر

سبز شاخوں پہ زمانے کی نظر ہوتی ہے

محفوظ اثر

MORE BYمحفوظ اثر

    سبز شاخوں پہ زمانے کی نظر ہوتی ہے

    کس کو سوکھے ہوئے پتوں کی خبر ہوتی ہے

    صدف چشم سے باہر جو نہ آنے پائے

    بوند اشکوں کی وہی مثل گہر ہوتی ہے

    یاد غربت میں جب آتی ہے وطن کی مجھ کو

    ناگہاں آنکھ مری اشکوں سے تر ہوتی ہے

    دفعتاً دل کا ہر اک زخم ابھر جاتا ہے

    جب بھی تصویر تری پیش نظر ہوتی ہے

    شام ہوتے ہی سلگ جاتے ہیں ہر گھر میں چراغ

    ڈوب جاتے ہیں ستارے تو سحر ہوتی ہے

    پھول تو پھول ہیں پتے نہیں اگتے جن میں

    ایسے پیڑوں سے بھی امید ثمر ہوتی ہے

    عیب جوئی میں شب و روز گزاریں جو اثرؔ

    اپنے کردار پہ کب ان کی نظر ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY