سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے

افتخار عارف

سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے

    کنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    وہ جس کی جرأت پرواز کے چرچے بہت تھے

    وہی طائر ہمیں بے بال و پر کیوں لگ رہا ہے

    وہ جس کے نام سے روشن تھے مستقبل کے سب خواب

    وہی چہرہ ہمیں نا معتبر کیوں لگ رہا ہے

    بہاریں جس کی شاخوں سے گواہی مانگتی تھیں

    وہی موسم ہمیں اب بے ثمر کیوں لگ رہا ہے

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں

    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے افتخار عارف

    مآخذ:

    • کتاب : Mahr-e-Do Neem (Pg. 72)
    • Author : iftikhaar aarif
    • مطبع : Educational Publishing House (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY