Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سر بکف چلنا پڑا ہے قاتلوں کے شہر میں

زبیر فاروقؔ

سر بکف چلنا پڑا ہے قاتلوں کے شہر میں

زبیر فاروقؔ

MORE BYزبیر فاروقؔ

    سر بکف چلنا پڑا ہے قاتلوں کے شہر میں

    دل کی قیمت کچھ نہ تھی ان بے حسوں کے شہر میں

    ہوشمندی کا لبادہ اوڑھ کر آیا تھا میں

    اور پاگل ہو گیا ہوں پاگلوں کے شہر میں

    سر چھپانے کے لئے اک سائباں تو چاہئے

    بھیگتے کب تک رہو گے بارشوں کے شہر میں

    سچ کی قیمت کچھ نہیں ہے جھوٹ کے بازار میں

    عقل کی وقعت کہاں ہے سرپھروں کے شہر میں

    کوئی بھی در وا نہیں ہوتا یہاں میرے لیے

    مل نہ پائیں گی پناہیں بزدلوں کے شہر میں

    مجھ کو بھی مہنگی بڑی ہے ان گلی کوچوں کی سیر

    دل گنوا آیا ہوں میں بھی گل رخوں کے شہر میں

    بیٹھ مت جانا کبھی فاروقؔ تم جی ہار کے

    ڈھونڈھنا ہے حل کوئی اس مشکلوں کے شہر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے