سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

آزاد گلاٹی

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

    روح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا

    ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئے

    اپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا

    آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا

    ہم نے جن آنکھوں میں اک خواب نگر لکھا تھا

    اپنے گھر میں اسی احساس نے جینے نہ دیا

    اپنے ہاتھوں پہ کسی اور کا گھر لکھا تھا

    زندگی ایک سلگتا ہوا صحرا تھا جہاں

    سب کی آنکھوں میں سرابوں کا بھنور لکھا تھا

    کون تھا مجھ میں کہ جس نے مجھے پڑھنے نہ دیا

    میرے چہرے پہ مرا نام اگر لکھا تھا

    اپنی ہی ذات کے ہالے میں رہے ہم آزادؔ

    ان گنت دائروں کا یعنی سفر لکھا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 564)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2013-14)
    • اشاعت : 2013-14

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY