شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

قمر جمیل

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

قمر جمیل

MORE BYقمر جمیل

    شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

    پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا

    یار عجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے

    شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا

    ہاتھ میں سب کے جلد تھی جس کے عجیب رنگ تھے

    جس پہ عجیب نام تھے اور کوئی ورق نہ تھا

    جیسے عدم سے آئے ہوں لوگ عجیب طرح کے

    جن کا لہو سفید تھا جن کا کلیجہ شق نہ تھا

    جن کے عجیب طور تھے جن میں کوئی کرن نہ تھی

    جن کے عجیب درس تھے جن میں کوئی سبق نہ تھا

    لوگ کٹے ہوئے ادھر لوگ پڑے ہوئے ادھر

    جن کو کوئی الم نہ تھا جن کو کوئی قلق نہ تھا

    جن کا جگر سیا ہوا جن کا لہو بجھا ہوا

    جن کا رفو کیا ہوا چہرہ بہت ادق نہ تھا

    کیسا طلسمی شہر تھا جس کے طفیل رات بھی

    میرے لہو میں گرد تھی آئینۂ شفق نہ تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    قمر جمیل

    قمر جمیل

    مأخذ :
    • کتاب : chhaar khvaab (Pg. 65)
    • Author : qamar jameel

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY