شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی

جون ایلیا

شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی

    ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی

    ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں

    رقص و نوا تھے بے طرف محفل شب بپا بھی تھی

    سامعۂ صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا

    ایک گماں کی داستاں بر لب نیم وا بھی تھی

    کیا مہ و سال ماجرا ایک پلک تھی جو میاں

    بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی

    ایک سرود روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا

    ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی

    دل ترا پیشۂ گلہ کام خراب کر گیا

    ورنہ تو ایک رنج کی حالت بے گلہ بھی تھی

    دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے

    اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی

    بال و پر خیال کو اب نہیں سمت و سو نصیب

    پہلے تھی اک عجب فضا اور جو پر فضا بھی تھی

    خشک ہے چشمہ سار جاں زرد ہے سبزہ زار دل

    اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی

    مآخذ:

    • Book: Gumaan (Poetry) (Pg. 41)
    • Author: Jaun Elia
    • مطبع: Takhleeqar Publishers (2012)
    • اشاعت: 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites