شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں

داغؔ دہلوی

شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں

داغؔ دہلوی

MORE BY داغؔ دہلوی

    شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں

    یہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیں

    خدا جانے ہم کس کے پہلو میں ہوں گے

    عدم کو سب اپنے پرائے گئے ہیں

    وہی راہ ملتی ہے چل پھر کے ہم کو

    جہاں خاک میں دل ملائے گئے ہیں

    مرے دل کی کیونکر نہ ہو پائمالی

    بہت اس میں ارمان آئے گئے ہیں

    گلے شکوے جھوٹے بھی تھے کس مزے کے

    ہم الزام دانستہ کھائے گئے ہیں

    نگہ کو جگر زلف کو دل دیا ہے

    یہ دونوں ٹھکانے لگائے گئے ہیں

    رہے چپ نہ ہم بھی دم عرض مطلب

    وہ اک اک کی سو سو سنائے گئے ہیں

    فرشتے بھی دیکھیں تو کھل جائیں آنکھیں

    بشر کو وہ جلوے دکھائے گئے ہیں

    چلو حضرت داغؔ کی سیر دیکھیں

    وہاں آج بھی وہ بلائے گئے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites