شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

آتش اندوری

شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

آتش اندوری

MORE BYآتش اندوری

    شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

    میں آتشؔ ملک سے سپنے میں بھی دھوکا نہیں کرتا

    بناتے کیسے ہیں مٹی سے سونا مجھ کو آتا ہے

    مگر میں دوستو ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا

    بھلا دیتے ہیں لوگ اکثر محبت میں کئے وعدے

    تبھی تو جان میں تم سے کوئی وعدا نہیں کرتا

    میں اک بوڑھا شجر جس کو جواں رکھا پرندوں نے

    تبھی تو میں پرندوں سے کوئی شکوہ نہیں کرتا

    اڑانیں دیکھنی ہیں گر تو میری شاعری دیکھو

    پرندہ ہوں میں پر ایسا کبھی دعویٰ نہیں کرتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY