شمع کی طرح پگھلتے رہئے

علقمہ شبلی

شمع کی طرح پگھلتے رہئے

علقمہ شبلی

MORE BYعلقمہ شبلی

    شمع کی طرح پگھلتے رہئے

    اپنی ہی آگ میں جلتے رہئے

    آج انساں کا مقدر ہے یہی

    ہر نئے سانچے میں ڈھلتے رہئے

    زندہ رہنے کی تمنا ہے اگر

    اپنا چہرہ بھی بدلتے رہئے

    چھاؤں کی طرح بڑھا بھی کیجے

    دھوپ کی طرح نہ ڈھلتے رہئے

    زندگی کی ہے علامت لغزش

    کیوں بہر گام سنبھلتے رہئے

    کام لیجے نہ زباں سے اپنی

    خاک بس چہرے پہ ملتے رہئے

    ذہن بھی شل نہ کہیں ہو جائے

    وقت زاروں سے نکلتے رہئے

    مآخذ:

    • کتاب : Be-Chehrah Lamhe (Pg. 38)
    • Author : Alqama Shibli
    • مطبع : Shaharyaar Brothers Publications (1975)
    • اشاعت : 1975

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY