شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے

غمگین دہلوی

شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے

غمگین دہلوی

MORE BYغمگین دہلوی

    شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے

    کچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئے

    زندگی کیونکر کٹے بے شغل اس پیری میں آہ

    تم کو اب اس نوجواں سے دل لگانا چاہیئے

    اس میں سب راز نہاں ہو جائیں گے ہم پر عیاں

    پھر اسے اک بار گھر اپنے بلانا چاہیئے

    پھر یہ ممکن ہے کہ میرے پاس تو اک دم رہے

    کچھ نہ کچھ اے یار بس تجھ کو بہانا چاہیئے

    گو بہت ہوشیار عاشق اے پری رو ہیں ترے

    لیکن ان میں ایک غمگیںؔ سا دوانہ چاہیئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے