شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

    میں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

    جلوہ کس آئینہ رو کا ہے نگاہوں میں کہ پھر

    دل حیرت زدہ آئینہ بناتا ہے مجھے

    عاشقی شیوہ لڑکپن سے ہے اپنا ناصح

    کیا کروں میں کہ یہی کام کچھ آتا ہے مجھے

    لطف کر لطف کہ پھر مجھ کو نہ دیکھے گا کبھی

    یاد رکھ یاد کہ تو در سے اٹھاتا ہے مجھے

    وحشتؔ اس مصرع جرأت نے مجھے مست کیا

    کچھ تو بھایا ہے کہ اب کچھ نہیں بھاتا ہے مجھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY