سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا

شاد عظیم آبادی

سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا

    تری جناب میں تیرا گناہ گار آیا

    خزاں کا دور گیا موسم بہار آیا

    مگر نہ اس دل بے صبر کو قرار آیا

    کہیں جواب نہ تو نے دیا یہاں کے سوا

    جہاں میں یوں تو بہت میں تجھے پکار آیا

    سرائے دہر میں چھوڑا تن کثیف اپنا

    یہ بوجھ سر سے مسافر ترا اتار آیا

    ہمارے نالۂ دل کا نہ پوچھیے احوال

    گلی سے یار کی ہمت بھی اب کے ہار آیا

    پڑی جو قیس کے اوپر نظر بیاباں میں

    مجھے غریب کے اوپر غضب کا پیار آیا

    نہ اپنے پاؤں سے آنا ملا گلی میں تری

    یہاں بھی چار کے کاندھوں پہ میں سوار آیا

    یہ اضطراب ہے کیوں ہے کدھر کا قصد اے روح

    کہاں سے آئی طلب کس جگہ سے تار آیا

    مری نہ پوچھ کہ تیری گلی میں خاک ہوں میں

    تجھی کو میری وفا کا نہ اعتبار آیا

    لحد نے کھول کے آغوش دی جگہ جو مجھے

    لپٹ کے رہ گئے ہم کو بھی خوب پیار آیا

    یقین جان لے ساقی کہ خم کی خیر نہیں

    خدا نہ کردہ جو اب کے مجھے خمار آیا

    مرے نصیب کہاں اس طرح کے دیدۂ تر

    سنوں یہ خوش خبری کان سے کہ یار آیا

    ترے فراق کے خوگر نہ مر مٹے جب تک

    قضا کے آنے کا تب تک نہ اعتبار آیا

    مآخذ
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 119)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY