سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

محمد اظہار الحق

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

محمد اظہار الحق

MORE BYمحمد اظہار الحق

    سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

    دریچہ کھل رہا تھا خواب میں دیوار کر ڈالا

    نشاں ہونٹوں کا لو دینے لگا ہے ذہن میں اب تو

    بالآخر میں نے اس کو مشعل رخسار کر ڈالا

    نقاہت اور بلا کا حسن اور آنکھوں کی دل گیری

    عجب بیمار تھا جس نے مجھے بیمار کر ڈالا

    مرے دل سے لپٹتی زلف بھی تو دیکھتا کوئی

    سبھی نالاں ہیں میں نے شہر کیوں مسمار کر ڈالا

    مری اترن سے اپنی ستر پوشی کر رہا ہے وہ

    مرے طرز غزل نے کیا اسے نادار کر ڈالا

    جو خائف تھے غزل میں ذکر بغداد و بخارا سے

    وہ خوش ہوں میں نے اب ذکر لب و رخسار کر ڈالا

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 08.02.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY