تا قیامت عشق کی جادوگری جاری رہے
تا قیامت عشق کی جادوگری جاری رہے
ان نگاہوں کو مری صورت سدا بھاتی رہے
پھول کی آغوش میں مدہوش جب تتلی رہے
پھول چاہے وقت کے باہم ہوا دھیمی رہے
زندگی بھر پاس اس کے میں رہوں کچھ اس طرح
جس طرح سے اک ہرن کے پاس کستوری رہے
جسم پر پوشاک سادہ میں پہن لوں گی مگر
شال پر اس کے مرے ہاتھوں کی گلکاری رہے
اس کے بن بھاری لگے دن کی گزرتی ہر گھڑی
اور تنہا رات میری جان کی بیری رہے
ہائے پورے چاند کی یہ رات کیوں اس کے بنا
چاندنی تن من جلانے کے لیے ہنستی رہے
یہ محبت سے بھری اس کی نظر مجھ پر سدا
رات میں شبنم سی دن میں دھوپ سی بکھری رہے
بند کمرے میں کھلی ہیں چٹھیاں محبوب کی
کھڑکیوں سے موسم گل ٹوہ لیتا ہی رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.