تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں

اشفاق حسین

تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں

    تلاش انہی کو ہے گھر کی جو نکلے گھر سے ہیں

    شناخت کی یہ کہانی بس ایک نسل کی ہے

    پھر اس کے بعد فسانے ادھر ادھر سے ہیں

    ابھی خبر نہیں نو واردان ہجرت کو

    کہاں سے اٹھے ہیں بادل کہاں پہ برسے ہیں

    قدم اٹھے نہیں معلوم منزلوں کی طرف

    مگر اداس ہم اندیشۂ سفر سے ہیں

    بس آنکھ کھلتے ہی تعبیر خواب مل جائے

    یہ کس طرح کے تقاضے ہمیں سحر سے ہیں

    نگاہ رکھتے ہیں سیارگاں کی نبض پہ ہم

    اور اپنے چاروں طرف کتنے بے خبر سے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY