تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے

خورشید طلب

تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے

    بھلے ہی خوش ہیں سب لیکن سفر افسوس کا ہے

    بہشتی باغ کی سب تتلیاں ہیں پر بریدہ

    شکستہ رنگ تا حد نظر افسوس کا ہے

    ابھی اترا رہے ہیں ساکنان قصر شاہی

    ابھی آنکھوں سے ان کے محو گھر افسوس کا ہے

    حویلی اب کہاں جو قہقہوں سے گونجتی تھی

    جہاں تک دیکھتا ہوں میں کھنڈر افسوس کا ہے

    کہاں ممکن ترے عشرت کدے میں شام کاٹیں

    ابھی تو سامنا ہر گام پر افسوس کا ہے

    عزیزو آؤ اب اک الوداعی جشن کر لیں

    کہ اس کے بعد اک لمبا سفر افسوس کا ہے

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 139)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY