تصویر پانیوں کی کچھ ایسی بنائی جائے
تصویر پانیوں کی کچھ ایسی بنائی جائے
حد نظر تک آگ بھڑکتی دکھائی جائے
آنسو بھی سیر کے لیے آتے ہیں آنکھ میں
یہ آب جو بھی بارہ دری سے ملائی جائے
اس نے طلب کیا ہے سر دست معجزہ
سورج کی ہر کرن مری مٹھی میں لائی جائے
دھوکا دہی سے اب کے برس بھی خرید اسے
جعلی کرنسی اب کے برس بھی چلائی جائے
وہ شخص نرم دل ہے تو پھر دیر کس لیے
کچی زمیں پہ پختہ حویلی بنائی جائے
میری قد آوری کی خبر پھر سے گرم ہے
بالشتیوں کی پھر کوئی مجلس بلائی جائے
ہے اس کی جنگ مجھ سے مرے بھائی سے نہیں
بیدلؔ محاذ جنگ پہ کیوں میرا بھائی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.