تیز طوفان تھا تنہا میں سفر کیا کرتا
تیز طوفان تھا تنہا میں سفر کیا کرتا
تم مرے ساتھ جو ہوتے تو بھنور کیا کرتا
آگ اپنوں نے لگائی ہے گھنے جنگل میں
ایک قطرہ بھی نہ پانی تھا شجر کیا کرتا
ایک دو گام میں چلتا تھا ٹھہر جاتا تھا
گرد ہی گرد تھی تا حد نظر کیا کرتا
مصلحت تھی یہ خدا کی کہ بنے اک دنیا
باغ فردوس میں ادنیٰ سا بشر کیا کرتا
تیرا ملنا بھی نہ ملنے کے برابر ہوتا
آخری وقت میں بدنامؔ خبر کیا کرتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.