ترا بیمار اچھا ہو رہا ہے
ترا بیمار اچھا ہو رہا ہے
یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے
اچانک دل جو پسپا ہو رہا ہے
کہیں سے چھپ کے حملہ ہو رہا ہے
تری تصویر اتاری جا رہی ہے
ترے پیکر کا چربہ ہو رہا ہے
ترے جانے سے ہر شے میں کمی ہے
بس اک صدمہ زیادہ ہو رہا ہے
دل اشکوں میں کھرل ہوگا ابھی تو
ابھی تو ریزہ ریزہ ہو رہا ہے
ہم اور فاقے اکٹھے ہیں ابھی تک
ابھی تک تو گزارا ہو رہا ہے
چلو لکھ آئیں کوئی حرف ہم بھی
ادب دیوار کعبہ ہو رہا ہے
قدم اگلی صدی میں رکھ رہے ہیں
سفر پچھلی صدی کا ہو رہا ہے
اتار اس جامۂ ہستی کو بیدلؔ
یہ پیراہن پرانا ہو رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.