تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

ظہیر کاشمیری

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

ظہیر کاشمیری

MORE BYظہیر کاشمیری

    تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

    محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی

    تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی

    حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی

    بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے

    چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدھم بھی

    مری تنہائیوں کی دل کشی تیری بلا جانے

    میری تنہائیوں سے پیار کرتا ہے ترا غم بھی

    بہاروں کے غزل خواں آج یہ محسوس کرتے ہیں

    پس دیوار گل روتی رہی ہے چشم شبنم بھی

    قریب آتے مگر کچھ فاصلہ بھی درمیاں رہتا

    کمی یہ رہ گئی ہے باوجود ربط باہم بھی

    ظہیرؔ ان کو ہمارے دل کی ہر شوخی گوارا تھی

    انہیں کرنا پڑے گا اب ہمارے دل کا ماتم بھی

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-zahiir (Pg. 24)
    • Author : Zaheer kaashmeeri
    • مطبع : al hamad publication (1994)
    • اشاعت : 1994

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY