تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

شاذ تمکنت

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

شاذ تمکنت

MORE BY شاذ تمکنت

    تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

    کہیں شراب مری زندگی نہ بن جائے

    کبھی کبھی تو اندھیرا بھی خوبصورت ہے

    ترا خیال کہیں روشنی نہ بن جائے

    بھڑک نہ جائے کہیں شمع علم و دانش بھی

    جنوں جنوں ہی رہے آگہی نہ بن جائے

    میں ڈر رہا ہوں کہاں تیرا سامنا ہوگا

    ترا وجود ہی میری کمی نہ بن جائے

    ترے بغیر زمانے کو منہ دکھا نہ سکوں

    یہ زندگی کہیں شرمندگی نہ بن جائے

    جہاں میں ہے کہ کمیں گاہ میں خدا جانے

    اب اس قدر بھی سبک آدمی نہ بن جائے

    یہ وہم دل کو ستاتا ہے رو بہ رو تیرے

    یہ تیری دید کہیں آخری نہ بن جائے

    طرب کی بزم میں کم کم فسردگی اے شاذؔ

    کہیں مزاج کی افتاد ہی نہ بن جائے

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 302)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY