تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو

فوزیہ رباب

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو

فوزیہ رباب

MORE BYفوزیہ رباب

    تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو

    دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو

    نین تو یوں ہی تمہارے ہیں بلا کے قاتل

    اس پہ تم روز سنور جاتے ہو حد کرتے ہو

    میری آنکھوں سے بھی آنسو نہیں گرنے پاتے

    میری آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو

    میرے جذبات میں تم بہہ تو لیا کرتے ہو

    کیسے دریا ہو اتر جاتے ہو حد کرتے ہو

    میں بھی ہر روز تری مان لیا کرتی ہوں

    تم بھی ہر روز مکر جاتے ہو حد کرتے ہو

    تیری خوشبو کو زمانے سے چھپاؤں کیسے

    تم جو چپ چاپ بکھر جاتے ہو حد کرتے ہو

    تم تو کہتے تھے رباب اب میں تری مانوں گا

    پھر بھی تم دیر سے گھر جاتے ہو حد کرتے ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY