تم کو چاہا بھی مگر تم کو پکارا بھی نہیں
تم کو چاہا بھی مگر تم کو پکارا بھی نہیں
میں تو خود کا بھی نہیں ہوں اور تمہارا بھی نہیں
مجھ سے مل بھی تو نہیں پائے جدا ہو بھی گئے
تم عجب کل ہو تمہیں میں نے گزارا بھی نہیں
جان کی قیمت لگا کر پھر خریدا کیوں نہیں
جان بخشی بھی نہیں کیوں جاں سے مارا بھی نہیں
دھوپ سے غم کی بچو اب تم بھی اختر اعظمیؔ
سوچ لو زلف خمیدہ کا سہارا بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.