Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ

محمود شام

ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ

محمود شام

MORE BYمحمود شام

    ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ

    پلکوں کی تہ میں بکھری ہوئی کرچیوں کو دیکھ

    میں ہوں ترا ہی عکس مرے رنگ پر نہ جا

    آنکھوں میں جھانک اپنی ہی تنہائیوں کو دیکھ

    یہ آسماں کے بدلے ہوئے رنگ غور کر

    ان موسموں کے بپھرے ہوئے تیوروں کو دیکھ

    سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیں

    خود کا حصار توڑ کے جاتی رتوں کو دیکھ

    گلیوں میں گھومتی ہیں ہزاروں کہانیاں

    چہروں پہ نقش وقت کی پہنائیوں کو دیکھ

    اک اک پلک پہ چھائی ہے محرومیوں کی شام

    ضبط سخن کی آگ میں جلتے لبوں کو دیکھ

    کہتی ہے شامؔ کچھ تو مکانوں کی خامشی

    بے مدعا نہیں ہیں کھلے روزنوں کو دیکھ

    مأخذ:

    Funoon(Jadeed Ghazal Number: Volume-002) (Pg. 969)

      • اشاعت: 1969
      • ناشر: احمد ندیم قاسمی
      • سن اشاعت: 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے