ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

عبید حارث

ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

عبید حارث

MORE BYعبید حارث

    ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

    کبھی یہ سوچ کہ جو کچھ ہوا ہوا کیوں ہے

    بنے ہیں ایک ہی مٹی سے ہم سبھی لیکن

    ہماری سوچ میں اس درجہ فاصلہ کیوں ہے

    لگا رکھا ہے یہ کس نے کڑی کو اندر سے

    اجاڑ گھر کا دریچہ ڈرا ڈرا کیوں ہے

    ابھی تو پھول بھی آئے نہیں ہیں شاخوں پر

    ابھی سے بوجھ درختوں پہ پڑ رہا کیوں ہے

    ٹھہر گیا ہے وہ آ کر انا کے نقطے پر

    اسی کے ساتھ مرا وقت رک گیا کیوں ہے

    تمہیں نے سوچ کے بچھو لگا کے رکھے تھے

    نہیں تو زخم تمہارا ہرا بھرا کیوں ہے

    سمجھ رہا ہے کہ تیری کوئی سنے گا نہیں

    تو اپنے جسم کی چیخوں سے بولتا کیوں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Atraaf (Pg. 114)
    • Author : Obaid Haris
    • مطبع : National Human For Needful Foundation, Nagpur (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے