اجالا چھن رہا ہے روشنی تقسیم ہوتی ہے

شاذ تمکنت

اجالا چھن رہا ہے روشنی تقسیم ہوتی ہے

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    اجالا چھن رہا ہے روشنی تقسیم ہوتی ہے

    تری آواز ہے یا زندگی تقسیم ہوتی ہے

    کبھی ریگ رواں سے پیاس بجھ جاتی ہے رہرو کی

    کبھی دریا کے ہاتھوں تشنگی تقسیم ہوتی ہے

    یہی وہ موڑ ہے اپنے پرائے چھوٹ جاتے ہیں

    قریب کوئے جاناں گمرہی تقسیم ہوتی ہے

    خوشی کے نام پر آنکھوں میں آنسو آ ہی جاتے ہیں

    بقدر غم محبت میں خوشی تقسیم ہوتی ہے

    یقیں آیا ترے شاداب پیکر کی کھنک سن کر

    بدن کے زاویوں میں یوں ہنسی تقسیم ہوتی ہے

    قیامت ہے دلوں کے درمیاں دیوار اٹھاتے ہو

    دلوں کے درد کی ہمسائیگی تقسیم ہوتی ہے

    وہیں کل وقت نے کھائی تھی ٹھوکر یاد ہے اب تک

    وہ پیچ و خم جہاں تیری گلی تقسیم ہوتی ہے

    سر پہنائے نغمہ شاذؔ کچھ شعلہ سا اٹھتا ہے

    سنا ہے دولت‌ پیغمبری تقسیم ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shaz Tamkanat (Pg. 380)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY