ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

احمد خیال

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

احمد خیال

MORE BYاحمد خیال

    ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

    کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا

    یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا

    سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا

    مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی

    لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا

    پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو

    پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں لاؤں گا

    جی بھر کے میں نے خاک اڑا لی نگر نگر

    اب زندگی کو ایک قرینے میں لاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے