ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

راغب بدایونی

ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

    جان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئی

    اب تو تم گور غریباں کو چلو بے پردہ

    اس کی شمعوں کو ہوا جا کے بجھا بھی آئی

    ہجر میں عرش سے ناکام دعا ہی نہ پھری

    نارسا ہو کے مری آہ رسا بھی آئی

    بات پوری نہ سنی ہم نے کبھی ناصح کی

    ٹوک اٹھے اپنی سمجھ میں جو ذرا بھی آئی

    پھیر لی رخ سے نظر اس نے کس انداز کے ساتھ

    آئنے میں جو نظر اپنی ادا بھی آئی

    دیکھ کر حال مرا ان سے ہنسی رک نہ سکی

    روکنے کے لئے ہر چند حیا بھی آئی

    نعش پہ آ کے مری اس نے وہ باتیں چھیڑیں

    ہر عزادار کو عبرت بھی حیا بھی آئی

    نگہ شوق نے کیا راز نہاں فاش کیا

    ہم سے پردہ بھی ہوا آج حیا بھی آئی

    نزع میں آ کے مری صرف یہ پوچھا اس نے

    اب بتاؤ کسی مصرف میں وفا بھی آئی

    دل ہی خستہ نہ ہوا لشکر غم کے ہاتھوں

    بلکہ اس معرکے میں کام دعا بھی آئی

    دعویٰ سحر بیانی ہے عبث اے راغبؔ

    میرؔ صاحب کی تمہیں طرز ادا بھی آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY