انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

مضطر خیرآبادی

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں

    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    وہ آئیں گے مری تقریب مرگ میں توبہ

    کبھی جو رسم عیادت ادا نہیں کرتے

    جہاں گئے یہی دیکھا کہ لوگ مرتے ہیں

    یہی سنا کہ وہ وعدہ وفا نہیں کرتے

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد

    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    جو ان حسینوں پہ مرتے ہیں جیتے جی مضطرؔ

    وہ انتظار‌ پیام‌ قضا نہیں کرتے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 98)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY