انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو

عبرت بہرائچی

انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو

عبرت بہرائچی

MORE BYعبرت بہرائچی

    انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو

    کوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کو

    خودکشی جیسا کوئی جرم نہیں دنیا میں

    کوئی بتلاتا نہیں جا کے یہ پروانے کو

    ساقیٔ وقت نے جب چھین لی ہاتھوں سے شراب

    میں نے ٹکرا دیا پیمانے سے پیمانے کو

    خاک زادہ نہیں پیدا ہوا ایسا کوئی

    جو حقیقت میں بدل دے مرے افسانے کو

    ابرہہ جیسا اگر ہو گیا پیدا کوئی

    کیا بچا پائیں گے ہم اپنے خدا خانے کو

    ایک مفسد کی یہ پھیلائی ہوئی ہے افواہ

    رات بھر شمع سے نفرت رہی پروانے کو

    مأخذ :
    • کتاب : Magz-e-Sukhan (Pg. 29)
    • Author : Ibrat Bahraichi
    • مطبع : Dr. Ibrat Bahraichi (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے