اس کا پیکر مری سوچوں نے تراشا کیسے
اس کا پیکر مری سوچوں نے تراشا کیسے
محو حیرت ہوں قریب اتنا وہ آیا کیسے
چلتے طوفاں میں پرندوں کو پناہیں دے کر
لے لیا مول درختوں نے یہ خطرہ کیسے
جب کسی شام کو گھر آتا ہوں خالی ہاتھوں
دیکھتا ہے مرے منہ کو مرا بچہ کیسے
کل اندھیروں سے رہائی کی دعا مانگی تھی
اب یہ تشویش کہ رخصت ہو اجالا کیسے
میں تو خود اپنی حدوں کو بھی نہیں چھو سکتا
تو خدا ہو کے مرے ذہن میں آیا کیسے
حادثوں نے مجھے کر ڈالا تھا ریزہ ریزہ
میں سمٹتا بھی جو بیدلؔ تو سمٹتا کیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.