اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

افتخار نسیم

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

افتخار نسیم

MORE BYافتخار نسیم

    اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

    آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

    جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا

    عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا

    ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لیے

    اس نے پوچھا بھی نہیں یہ پھر بھی آمادہ لگا

    کارواں ہے یا سراب زندگی ہے کیا ہے یہ

    ایک منزل کا نشاں اک اور ہی جادہ لگا

    روشنی ایسی عجب تھی رنگ بھومی کی نسیمؔ

    ہو گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY