اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا
اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا
خود مر گیا ضمیر کو مرنے نہیں دیا
آتا ہوا دکھائی دیا تھا وہ دور سے
پھر یہ ہوا کہ ساتھ نظر نے نہیں دیا
احساس تو مجھے بھی سفر میں تھکن کا تھا
سایہ مگر کسی بھی شجر نے نہیں دیا
تنہا سے ایک شخص کو دیکھا تھا راہ میں
پھر راستوں نے آگے گزرنے نہیں دیا
صیقل کیا ہے مجھ کو مری حیرتوں نے خود
یہ آئنہ تمہاری نظر نے نہیں دیا
بیدلؔ ہم اہل شوق بھی کتنے حریص ہیں
جو زخم بھی لگا اسے بھرنے نہیں دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.