اونچی اونچی شہنائی ہے

رئیس فروغ

اونچی اونچی شہنائی ہے

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    اونچی اونچی شہنائی ہے

    پاگل کو نیند آئی ہے

    ایک برہنہ پیڑ کے نیچے

    میں ہوں یا پروائی ہے

    میری ہنسی جنگل میں کسی نے

    دیر تلک دہرائی ہے

    روشنیوں کے جال سے باہر

    کوئی کرن لہرائی ہے

    خاموشی کی جھیل پہ شیاما

    کنکر لے کر آئی ہے

    دھیان کی ندیا بہتے بہتے

    ایک دفعہ تھرائی ہے

    کھیت پہ کس نے سبز لہو کی

    چادر سی پھیلائی ہے

    میرے اوپر جالا بننے

    پھر کوئی بدلی چھائی ہے

    ایک انگوٹھی کے پتھر میں

    آنکھوں کی گہرائی ہے

    دیواروں پر داغ لہو کے

    پتھریلی انگنائی ہے

    میں نے اپنے تنہا گھر کو

    آدھی بات بتائی ہے

    میں تو اس کا سناٹا ہوں

    وہ میری تنہائی ہے

    صبح ہوئی تو دل میں جیسے

    تھکی تھکی انگڑائی ہے

    ٹھنڈی چائے کی پیالی پی کے

    رات کی پیاس بجھائی ہے

    اپنے بادل کی کٹیا کو

    میں نے آگ لگائی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    رئیس فروغ

    رئیس فروغ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY