وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا)

واصف دہلوی

وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا)

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے

    چراغ باد فنا نے بجھائے ہیں کیا کیا

    نہ تاب دید نہ بے دیکھے چین ہی آئے

    ہمارے حال پہ وہ مسکرائے ہیں کیا کیا

    رضا و صبر و قناعت تواضع و تسلیم

    فلک نے ہم کو خصائل سکھائے ہیں کیا کیا

    لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیر

    ہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا کیا

    نقاب اٹھاؤ تو قصہ ہی ختم ہو جائے

    تمہارے پردہ نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

    زمانہ ہلکا سا خاکہ نہ لے سکا جن کا

    نقوش دست قضا نے مٹائے ہیں کیا کیا

    یہ پنج شیل یہ جمہوریت یہ رائے عوام

    یہ اہل زر نے کھلونے بنائے ہیں کیا کیا

    بلائے جاں ہوئی واصفؔ کی بے گناہی بھی

    ذرا سی بات میں الزام آئے ہیں کیا کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا) نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY