وہ شب فرقت میں بھی یوں مسکرائے جا رہیں ہیں

صاحب شریہ

وہ شب فرقت میں بھی یوں مسکرائے جا رہیں ہیں

صاحب شریہ

MORE BYصاحب شریہ

    وہ شب فرقت میں بھی یوں مسکرائے جا رہیں ہیں

    ہجر کے لمحے نہ کیوں ہم سے گزارے جا رہیں ہیں

    اے خدا مجھ کو اجازت دے کہ اس کو چھو سکوں میں

    کب سے ایسے چاند کو خالی نہارے جا رہیں ہیں

    آسماں کے کینوس پر چاند باقی تھا بنانا

    سو ترے چہرے سا اک چہرہ بنائے جا رہیں ہیں

    نام لکھا پھر سے ہم نے ایک پنے پر تمہارا

    اب وہی پنا تمہیں سے ہم چھپائے جا رہیں ہیں

    عشق کی یہ روشنائی کم نہ ہو جائے کے ڈر سے

    ہم چراغوں کی جگہ پر دل جلائے جا رہے ہیں

    ایک وہ جو بھول سے بھی فون کرتے ہیں نہ ہم کو

    اور پاگل ہم بزی نمبر ملائے جا رہے ہیں

    سوچ لو آرام سے انکار کا کوئی بہانا

    کون سا ہم چھوڑ کر یہ شہر بھاگے جا رہے ہیں

    بے ادب کہہ کر مجھے رسوا کیا تھا یار جس نے

    آج وہ ہر شعر پر تالی بجاے جا رہے ہیں

    درد میں بھی عشق پر صاحب جو کہتے تم غزل ہو

    لگ رہا خود سے ہی خود کو آپ مارے جا رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے