یہاں جو زخم ملتے ہیں وہ سلتے ہیں یہیں میرے

انجم خلیق

یہاں جو زخم ملتے ہیں وہ سلتے ہیں یہیں میرے

انجم خلیق

MORE BYانجم خلیق

    یہاں جو زخم ملتے ہیں وہ سلتے ہیں یہیں میرے

    تمہارے شہر کے سب لوگ تو دشمن نہیں میرے

    تلاش عہد رفتہ میں عجائب گھر بھی دیکھے ہیں

    وہاں بھی سب حوالے ہیں کہیں تیرے کہیں میرے

    ذرا سی میں نے ترجیحات کی ترتیب بدلی تھی

    کہ آپس میں الجھ کر رہ گئے دنیا و دیں میرے

    فلک حد ہے کہ سرحد ہے زمیں معدن ہے یا مدفن

    مجھے بے چین ہی رکھتے ہیں یہ وہم و یقیں میرے

    میں تیرے ظلم کیسے حشر تک سہتا چلا جاؤں

    بس اب تو فیصلے ہوں گے یہیں تیرے یہیں میرے

    اچانک کس طرح آخر یہ دنیا چھوڑ سکتا ہوں

    خزانے جا بہ جا مدفون ہیں زیر زمیں میرے

    تو جب میرے کئے پر ہے مرا انجام پھر انجام

    یہ ماضی حال مستقبل تو ہیں زیر نگیں میرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY