Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے

شاد عارفی

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے

شاد عارفی

MORE BYشاد عارفی

    یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے

    مگر کسی طرح دل نہیں مانتا کہ وہ جلوہ گر نہیں ہے

    کسی بھی در پر علاج آویزش یقین و گماں نہ ہوگا

    ادھر چلا آ کہ میکدے میں اگر نہیں ہے مگر نہیں ہے

    ہزارہا سامنے کی باتوں سے جان پڑتی ہے شاعری میں

    وہ کون سے پیش پا مضامیں ہیں جن پہ میری نظر نہیں ہے

    جبیں پہ بندی نظر میں جادو لبوں پہ بجلی کمر پہ گیسو

    وو میری حیرت کو دیکھتے ہیں انہیں کچھ اپنی خبر نہیں ہے

    نہیں جو قاصد کا آنا جانا فریب کھانے لگا زمانہ

    تو یہ حقیقت کہ ربط بے حد کو حاجت نامہ بر نہیں ہے

    نقاب اٹھنے میں دیر کیوں ہے یہ کون سمجھے یہ کون جانے

    کسے خبر ہے کہ خواہش دید وقت سے پیشتر نہیں ہے

    غلط بیانی سے شادؔ اہل سخن ابھی کام لے رہے ہیں

    نہیں ہے ہر چند وہ زمانہ دہن نہیں ہے کمر نہیں ہے

    مأخذ:

    غزل اس نے چھیڑی-5 (Pg. 260)

    • مصنف: فرحت احساس
      • ناشر: ریختہ بکس ،بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا،اترپردیش۔201301
      • سن اشاعت: 2018

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے