یقیں کی حد کو جا پہنچا جو پہلے تھا گماں اپنا

قمر عباس قمر

یقیں کی حد کو جا پہنچا جو پہلے تھا گماں اپنا

قمر عباس قمر

MORE BYقمر عباس قمر

    یقیں کی حد کو جا پہنچا جو پہلے تھا گماں اپنا

    وہی مجرم نکل آیا جو ٹھہرا رازداں اپنا

    مری ہستی کا اب احساس خود مجھ میں نہیں باقی

    در و دیوار سے میں پوچھتا ہوں خود نشاں اپنا

    دیار غیر میں امید وہ بھی دل نوازی کی

    تسلی دل کو مل جاتی جو ہوتا ہم زباں اپنا

    تمہارے ہجر میں جاناں یہ کیسا حال ہے میرا

    نہ ذات لا مکاں اپنی نہ امکان مکاں اپنا

    ہے مقتل میں مری گردن پہ خنجر اس پری وش کا

    یہی تھا مشغلہ اس کا یہی تھا امتحاں اپنا

    تجھے صحرا نوردی سے قمرؔ کتنی محبت ہے

    جلا ڈالا ہے خود ہاتھوں سے اپنے آشیاں اپنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY