یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

نظم طبا طبائی

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

    نہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو

    بغل گیر آرزو سے ہیں مرادیں آرزو مجھ سے

    یہاں اس وقت تو اک عید ہے تم جلوہ گر کیا ہو

    مقدر میں یہ لکھا ہے کٹے گی عمر مر مر کر

    ابھی سے مر گئے ہم دیکھیے اب عمر بھر کیا ہو

    مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں

    یہ سچ ہے نازنیں ہو خوبصورت ہو مگر کیا ہو

    لگا کر زخم میں ٹانکے قضا تیری نہ آ جائے

    جو وہ سفاک سن پائے بتا اے چارہ گر کیا ہو

    قیامت کے بکھیڑے پڑ گئے آتے ہی دنیا میں

    یہ مانا ہم نے مر جانا تو ممکن ہے مگر کیا ہو

    کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں

    کہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

    مآخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-301 E317)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954
    • کتاب : Noquush (Pg. B-301 E317)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY