یہ برا حال جو حیات کا ہے
یہ برا حال جو حیات کا ہے
سارا چکر معاشیات کا ہے
میرے سائے کو راستہ دینا
یہ مسافر بھی میرے ساتھ کا ہے
امن اک میرا مسئلہ تو نہیں
مسئلہ ساری کائنات کا ہے
اپنی قسمت کھلے تو کیسے کھلے
ہر ستارہ اسی کے ہاتھ کا ہے
جب وہ چھپتا دکھائی دے بیدلؔ
وہی لمحہ مشاہدات کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.