یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی

خورشید طلب

یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی

    سوچ لینا اس میں جا سکتی ہے تیری جان بھی

    روشنی بھی چاہئے تازہ ہوا کے ساتھ ساتھ

    کھڑکیاں رکھتا ہوں اپنے گھر میں روشن دان بھی

    زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز

    ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی

    گاؤں کی پگڈنڈیاں پکی سڑک سے جا ملیں

    تنگ گلیوں میں بدل کر رہ گئے میدان بھی

    پاسبان عقل نے تو مجھ کو سمجھایا بہت

    تھا مگر پہلو میں میرے دل سا اک نادان بھی

    خشک ہیں دریا سمندر کٹ گئے جنگل تمام

    ریت سے خالی ہوئے جاتے ہیں ریگستان بھی

    میرے لفظوں کے اجالے ماند پڑتے جائیں گے

    دھند میں کھو جائے گی اک دن مری پہچان بھی

    خود کو کیسے قتل ہونے سے بچاتا میں طلبؔ

    رات میرے گھر میں اک قاتل تھا اور مہمان بھی

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 140)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY