یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

محسن نقوی

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

    ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے

    یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی

    وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے

    ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے

    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے

    کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادے

    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستے

    کبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے

    انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل

    وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے

    ترے سپرد کروں آئینے مقدر کے

    ادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے

    کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ

    کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY