یہ خبر آئی ہے آج اک مرشد اکمل کے پاس

شوق بہرائچی

یہ خبر آئی ہے آج اک مرشد اکمل کے پاس

شوق بہرائچی

MORE BYشوق بہرائچی

    یہ خبر آئی ہے آج اک مرشد اکمل کے پاس

    ان کو دھمکایا کسی نے ریلوے سگنل کے پاس

    حسن آوارہ کا اے ہم دم بھلا کیا اعتبار

    آج بھٹناگر کے بس میں ہے تو کل متل کے پاس

    ان کی وحشت سے یہ ظاہر ہو رہا ہے خود بہ خود

    یہ اسی موضع میں رہتے ہیں جو ہے منگل کے پاس

    باغباں کی اب توجہ ہے گلستاں کی طرف

    پودے بڑھ کے خود لگائے ہیں کئی کٹہل کے پاس

    اٹھ گیا بزم طرب سے وہ رقیب رو سیاہ

    رفتہ رفتہ ہاتھ جب پہنچا مرا چپل کے پاس

    رزم گہہ میں ان سے نظریں لڑ رہی ہیں بار بار

    ہو رہا ہے ایک دنگل اور اسی دنگل کے پاس

    لوگ ان کی بزم میں رہ کر بھی ہیں محروم دید

    جاں بلب ہیں پیاس سے بیٹھے ہوئے ہیں نل کے پاس

    دیکھیے یہ بادۂ رنگیں کی ادنیٰ سی کشش

    شیخ صاحب اور کھسک کر آ گئے بوتل کے پاس

    ناصح ناداں کا شکوہ کرنا ہے بالکل فضول

    وہ تو پاگل ہے کوئی کیوں جائے پھر پاگل کے پاس

    ہمت افزائی نہ جب عمال معمولی نے کی

    پہنچی رشوت افسران درجۂ اول کے پاس

    شوقؔ صاحب مونس تنہائی کی حاجت ہو گر

    تو کسی دن بے تکلف چلئے سیو ادل کے پاس

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-kalam shauq bahraichi (Pg. 89)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY