یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا

حلیم صابر

یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا

حلیم صابر

MORE BYحلیم صابر

    یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا

    مر جائے اگر کوئی تو ماتم نہیں ہوتا

    ہر درد کی قسمت میں دوا بھی نہیں ہوتی

    ہر زخم کی تقدیر میں مرہم نہیں ہوتا

    ہو جاتا ہے شادابیٔ رخسار سے محروم

    وہ پھول جو آسودۂ شبنم نہیں ہوتا

    اظہار تمنا کی کوئی رت نہیں ہوتی

    اقرار وفا کا کوئی موسم نہیں ہوتا

    ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

    سر وہ ہے کہ جو وار پہ بھی خم نہیں ہوتا

    یہ درد محبت بھی عجب درد ہے صابرؔ

    بڑھتا ہے تو بڑھتا ہے کبھی کم نہیں ہوتا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY