یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

ذوالفقار عادل

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

    بغیر اجازت میں دن کو بستی میں لا رہا ہوں معاف کرنا

    زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی

    کہانیو میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا

    کچھ اتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے

    میں ان پرندوں کو اپنی چھت سے اڑا رہا ہوں معاف کرنا

    یہ بے یقینی عجب نشہ ہے یہ بے نشانی عجب سکوں ہے

    میں ان اندھیروں کو روشنی سے بچا رہا ہوں معاف کرنا

    انہیں ستاروں کے سب لطائف سنا چکا ہوں ہنسی ہنسی میں

    اور اب چراغوں سے اپنا دامن بچا رہا ہوں معاف کرنا

    مجھے بتانے کا فائدہ کیا مکین کیا تھے مکان کیا ہیں

    میں اس گلی سے نہ آ رہا ہوں نہ جا رہا ہوں معاف کرنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY