یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا

سخی لکھنوی

یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا

سخی لکھنوی

MORE BYسخی لکھنوی

    یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا

    بیٹھیے آج کہاں جائیے گا

    مرقد کشتہ پہ جب آئیے گا

    دل میں کچھ سوچ کے پچھتائیے گا

    ہم تو سمجھے تھے کہ جلد آئیے گا

    خیر اب پوچھ کے گھر جائیے گا

    غیر کو بوسے دہن کے کیسے

    کچھ مرا منہ تو نہ کھلوائیے گا

    میرے کہنے میں نہیں ہے دل زار

    آپ ہی کچھ اسے سمجھائیے گا

    اب تو چوسے لب شیریں ہم نے

    لو ہمیں گھول کے پی جائیے گا

    دولت وصل ہے قیمت دل کی

    آگے کچھ آپ بھی فرمائیے گا

    جمع خاطر رہیے اے اہل قبور

    ہم بھی آتے ہیں نہ گھبرائیے گا

    وصف لکھتے ہیں لب شیریں کے

    کچھ مٹھائی ہمیں کھلوائیے گا

    نزع میں پاس مرے کیوں بیٹھے

    اٹھیے اٹھیے نہیں گھبرائیے گا

    صدمۂ ہجر میں تکلیف کریں

    ملک الموت سے فرمائیے گا

    آپ پر مرنے سے حاصل کیا ہے

    فاتحہ بھی تو نہ دلوائیے گا

    شیخ جی بت کی برائی کیجے

    اپنے اللہ سے بھرپائیے گا

    کعبہ میں سخت کلامی سن لی

    بت کدہ میں نہ کبھی آئیے گا

    بوسے للہ سخیؔ مانگتا ہے

    ایک دیجے گا تو دس پائیے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY