یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

اعجاز توکل

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

اعجاز توکل

MORE BYاعجاز توکل

    یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

    ہوا درختوں کی داشتہ نئیں

    وفا کا سن کر ملال مت کر

    یہ پیشکش ہے مطالبہ نئیں

    یقین سے عشق ہو رہا ہے

    کسی کو فکری مغالطہ نئیں

    فسردہ لوگوں پہ ہنسنے والو

    یہ بد تمیزی کی انتہا نئیں

    نظر نظر سے سخن کرے گی

    یہ لب کشائی کا مرحلہ نئیں

    میں چل پڑوں گا کسی بھی لمحے

    تھکا ہوا ہوں شکستہ پا نئیں

    یہ ہجر ہے اپنے ساتھ رہنا

    یہ وقت خود سے گریز کا نئیں

    مجھے بہت دیکھتی ہے دنیا

    مگر میں دنیا کو دیکھتا نئیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY